A heart touching story of innocent girl "تم واحد شخص ہو جو ان سات سالوں میں یہاں اس قبر پر فاتحہ کے لیے آیا ہے۔" اُس نے نظر اُٹھا کر دیکھا سامنے ایک درمیانی عمر کا شخص کھڑا اُس سے کہہ رہا تھا، وہ یہاں کا گورکن تھا۔ "یہ جب یہاں لائی گئی تھی تو تقریباً چار ہی لوگ تھے جو دفنانے آئے تھے" اور ایک بہت عجیب بات ہے صاحب! کیا؟؟ تو وہ بولا "یہ جب دفنانے آئے تھے اس لڑکی کو تو اس کا کفن تو سفید تھا مگر چادر کالی تھی اور پھر جب دفنا دیا تو اس کے کتبے پر یہ نام دیکھو سید مستم حیدر لکھوا دیا بھلا عورت کی قبر پر مرد کا نام کیوں؟" گورکن کی بات پر وہ بے بسی سے مُسکرا دیا...! اے مستو یہ چادر اپنی مجھے دے دو یہ کالی چادر جب مروں گی تو اسی میں لپٹ کر دفن ہوں گی ایسے لگے گا کہ جیسے تمہاری پناہوں میں ہوں... پتہ ہے جب تم پاس ہوتے ہو تو کوئی ڈر کوئی خوف نہیں رہتا جانتے ہو نہ اندھیرا کتنا ڈراتا ہے مجھے تو بس اس چادر میں ہی قبر میں جاوں گی تا کہ تمہارا احساس پاس رہے اور کوئی ڈر باقی نہ رہے اور اپنی قبر کے کتبے پر بھی تمہارا نام لکھوا...
Here we have provide a logical and intersting info