محبت تم سے نفرت ہے پارٹ نمبر 3. مجھے اپنا لو مجھ سے شادی کر لو میرے دماغ میں سوال چل رہا تھا جس نے چارپائی میرے ساتھ رکھی اور اب میری چارپائی تک آگئی ہے اس کے کردار کو دیکھوں یا اس کے اسرار کو دیکھو سینے سے سر اٹھا کر اس نے میرے پاؤں کو دبانا شروع کر دیا اور میں اس کی ان حرکتوں سے تنگ آ رہا تھا میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا اسی دوران پھر سے اس کی سہیلی اٹھ جانے کو کہا اور بار بار کہا اور میری آنکھ کھل گی اور میں نے اس کو اس کی اپنی چارپائی پر لیٹے ہوئے پایا میں نے اس کے منہ کی طرف دیکھا تو مجھے محسوس ہوا کہ اس کی آنکھوں میں آنسو ہیں مجھے لگ رہا تھا کہ وہ کوئی خیال دیکھ رہی ہے میں یہی سوچ رہا تھا کہ اچانک سے وہ کھڑی ہوئی شاید اس نے میرے پاؤں کے آٹھ سن لی تھی اور وہ جلدی سے کھڑی ہو گئی اور مجھے کہنے لگی مسات چلو جلدی سے ہاتھ منہ دھو لو میں ہاتھ منہ دھو کیا ہے تو وہ ہمسایوں کے گھر سے انڈے لے کر آ رہی تھی اور اس کا چہرہ اتنا خوش نما تھا کہ جیسے بچے عید کے دن خوش ہوتے ہیں اس نے جلدی سے ناشتہ پکایا اور مجھے دینے آگی کچھ کے دیر بعد اس نے کہا آو میں تمہں اپنی سہی...
Here we have provide a logical and intersting info